Thursday, October 21, 2021
Home اردو جلیانوالا باغ کی تجدید: شہیدوں کی بے حرمتی وہی کر سکتا ہے...

جلیانوالا باغ کی تجدید: شہیدوں کی بے حرمتی وہی کر سکتا ہے جو شہادت کا مطلب نہیں جانتا، راہل گاندھی


راہل گاندھی نے کہا، ’’جلیانوالا باغ کے شہیدوں کی ایسی بے حرمتی وہی کر سکتا ہے جو شہادت کا مطلب نہیں جانتا۔ میں ایک شہید کا بیٹا ہوں، شہیدوں کی بے عزتی کسی قیمت پر برداشت نہیں کروں گا‘‘

جلیانوالا باغ / Getty Images
user

Engagement: 0

نئی دہلی: ہندوستان کی تاریخ میں درج ایک سیاہ باب جلیانوالا باغ کی تجدید کاری پر لوگ حکومت پر سخت تنقید کر رہے ہیں اور اسے شہیدوں کے بے حرمتی قرار دے رہے ہیں۔ اسی ضمن میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ٹوئٹ کر کے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہیدوں کی ایسی بے حرمتی وہی کر سکتا ہے جو شہادت کا مطلب نہیں جانتا ہو۔

خیال رہے کہ جنگ آزادی کے دوران امرتسر میں واقعہ جلیانوالا باغ میں ظالم برطانوی حکومت نے 102 سال پہلے 1000 سے زیادہ نہتے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ یہاں آج تک وہ گلیارے موجود ہیں جن کا راستہ روک کر جنرل ڈائر کی قیادت میں انگریز فوج نے بیساکھی کے موقع پر پُر امن مظاہرہ کر رہے مرد و خواتین پر فائرنگ کر دی تھی۔ ان گلیاروں کی تجدیدکاری پر حکومت پر سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔

راہل گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’جلیانوالا باغ کے شہیدوں کی ایسی بے حرمتی وہی کر سکتا ہے جو شہادت کا مطلب نہیں جانتا۔ میں ایک شہید کا بیٹا ہوں، شہیدوں کی بے عزتی کسی قیمت پر برداشت نہیں کروں گا۔ ہم اس بھدے ظلم کے خلاف ہیں۔‘‘ ایک اور ٹوئٹر میں انہوں نے کہا، ’’وہ جنہوں نے آزادی کے لئے جدوجہد نہیں کی وہ انہیں کبھی نہیں سمجھ سکتے جنہوں نے ایسا کیا۔‘‘

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز تجدید شدہ کمپلیکس کا افتتاح کرتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ ملک کا فرض ہے کہ وہ تاریخ کی حفاظت کریں۔ اس پر سوشل میڈیا پر شدید رد عمل کیا گیا اور لوگوں نے حکومت پر تاریخ کو تہس نہس کرنے کا الزام عائد کیا۔ کچھ صافین نے یہاں تک کہا کہ سیاستدانوں کو شاید ہی کبھی تاریخ کا احساس ہو پاتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

error: We are sorry, You can\'t Copy it.