Thursday, October 21, 2021
Home اردو اتراکھنڈ: سبھی اضلاع میں غیر ہندو آبادی کا سروے، ہندو ووٹ پولرائز...

اتراکھنڈ: سبھی اضلاع میں غیر ہندو آبادی کا سروے، ہندو ووٹ پولرائز کرنے کی کوشش!


اتراکھنڈ میں آئندہ سال اسمبلی انتخاب ہونا ہے اور بی جے پی حکومت کی ناکامیاں ظاہر ہیں، ایسے میں فرقہ وارانہ پولرائزیشن کے ذریعہ ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش شروع ہو گئی ہے۔

تصویر یو این آئی
user

Engagement: 0

اتر پردیش سے الگ ہو کر اتراکھنڈ بنے اگلے 9 نومبر کو 21 سال مکمل ہو جائیں گے۔ فطری ہے کہ یہاں کی سیاست اپنی پرانی ریاست سے متاثر ہوگی، اور سچ تو یہ ہے کہ یہاں بھی بی جے پی کو اپنی کارکردگی کی طاقت پر اقتدار میں لوٹنے کی امید نہیں ہے۔ اسی لیے بی جے پی حکومت یہاں بھی فرقہ وارانہ پولرائزیشن کی کوشش کر رہی ہے۔

روزگار اور آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے اتراکھنڈ سے ہجرت کی بات سب جانتے ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ گاؤں کے گاؤں اس وجہ سے خالی ہو گئے ہیں۔ کئی جگہ تو چند لوگ ہی بچ گئے ہیں اور وہ بھی کسی مجبوری میں۔ ابھی انتخابات کے تقریباً چھ ماہ پہلے بی جے پی حکومت کو اچانک ’دِویہ گیان‘ ہوا کہ دیو بھومی اتراکھنڈ میں غیر ہندو آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ایسا سازش کے تحت ہو رہا ہے۔ پشکر سنگھ دھامی حکومت نے آناً فاناً میں سبھی 13 اضلاع کے ضلع مجسٹریٹس کو خط لکھ کر غیر ہندو آبادی بڑھنے کی وجہ اور اس کے پیچھے کی سازش کا پتہ لگانے کا حکم جاری کر دیا۔ حکومت کی جانب سے غیر ہندو آبادی کے طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کی گنتی کی گئی ہے۔ رڑکی میں چرچ پر اور پتھری علاقہ میں خاص طبقہ کے لوگوں کے گھروں پر ہوئے حملوں سے سمجھا جا سکتا ہے کہ بی جے پی حامی اسے کس طرح آگے بڑھائیں گے۔

حکومت کی دلیل ہے کہ سَنت سماج کافی وقت سے الزام لگا رہا تھا کہ سناتن مذہب کے دیوی دیوتاؤں کی پاکیزہ زمین اور دیو استھانوں کو یہ لوگ سازشاً ناپاک کرتے ہوئے آبادی کے تناسب میں تبدیلی کر رہے ہیں۔ اگر یہ سچ ہوتا تو حکومت کو پہاڑی اضلاع پر زیادہ دھیان دینی چاہیے تھی کیونکہ ہجرت کی وجہ سے وہیں مقامی آبادی کم ہو رہی ہے۔ لیکن حکومت کی توجہ تین میدانی اضلاع پر زیادہ۔ اس کی خاص وجہ بھی ہے۔

ریاست کی کل 70 اسمبلی سیٹوں میں سے سیدھے طور پر 30 سیٹ انہی 3 اضلاع اور اس سے ملحق علاقوں میں ہیں۔ اور یہ 30 سیٹیں ایک طرح سے حکومت بننے کا مستقبل طے کرتی ہیں۔ ان تین اضلاع میں ملی جلی آبادی ہے۔ کماؤں کے اودھم سنگھ نگر اور اس سے ملحق علاقوں میں سکھ آبادی کافی زیادہ ہے، لیکن مسلم آبادی بھی ٹھیک ٹھاک ہے۔ دہرہ دون کی 8 اور ہریدوار کی 11 اسمبلی حلقوں میں زیادہ تر غیر ہندو آبادی کا اتحاد شکست و فتح کا فیصلہ کرنے میں اثرانداز مانا جاتا ہے۔ بی جے پی کا زور ان علاقوں میں ہندو ووٹوں کو پولرائز کرنے پر ہے۔

ویسے ہندو-مسلم کے نام پر سیاست چمکانے کی کوشش ہو تو کافی دنوں سے رہی ہے۔ کچھ دنوں پہلے سوشل میڈیا پر یہ پیغام خوب چلا کہ 500 کروڑ کے فرضی اسکالرشپ معاملے پکڑے جانے پر سینکڑوں مدرسے بند ہو گئے۔ یہ تو سچ ہے کہ اس طرح کا گھوٹالہ پکڑا گیا، لیکن اس معاملے میں گرفتار ہونے والے بیشتر ہندو ہیں۔ دراصل مدرسوں کے ساتھ ساتھ تمام سنسکرت کالج اور ڈگری کالج بھی اس گھوٹالے میں شامل پائے گئے۔ اب اس ایشو پر تبادلہ خیال کرنے کو بھی کوئی تیار نہیں۔

ویسے مزید ایک بات حکومت کی نیت پر سوالیہ نشان لگاتی ہے۔ ضابطہ یہ ہے کہ گوشت کی فروخت کہیں بھی تبھی ہو سکتی ہے جب وہاں سلاٹر ہاؤس ہو۔ لیکن پورے اتراکھنڈ میں ایک بھی سلاٹر ہاؤس نہیں ہے۔ حتیٰ کہ ’دھرم نگری‘ ہریدوار تک میں سرکاری اجازت سے گوشت اور شراب کی کھلی بکری ہو رہی ہے، جب کہ سال 1916 میں مہامنا پنڈت مدن موہن مالویہ کے ساتھ ہوئے معاہدہ کے تحت اس وقت کی برطانوی حکومت نے ہریدوار کی مذہبی اہمیت کو دیکھتے ہوئے میونسپلٹی سرحد علاقہ میں اس کی فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس وقت اور اس کے بعد کی حکومتوں میں قوانین پر سختی کے ساتھ عمل ہوا۔ لیکن جب بی جے پی حکومت نے میونسپلٹی کا اسٹیٹس میونسپل کارپوریشن کر دیا، تب سے اس قانون پر عمل میں بھی تبدیلی آ گئی۔ یہی نہیں، مذہبی اضلاع اور مقامات پر حکومت شراب فروخت کرنے کے لائسنس بھی تیزی سے جاری کر رہی ہے۔ ان سب سے اسے پاکیزگی ختم ہونے کا خطرہ نہیں ہے!

(’نوجیون‘ کے لیے جیوتی ایس. کی تحریر کا ترجمہ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments

error: We are sorry, You can\'t Copy it.